یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid Baig

Regular price $ 350.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid BaigBook Name: Ye Mera Baltistan Author: Salma Awan Book Publisher: Al Faisal Publishe Edition: New Book Code: OBS0120 Language: Urdu Format: Paperback Category: Novels in Urdu Language

Book Name: Rubaiyat of Omar Khayyam

حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی سرفہرست 5 ملحد کتابوں میں سے ایک۔ کیا ہمارے موجودہ خدا اور مذاہب اگلے 100 سالوں میں ختم ہو جائیں گے؟ انسانی تاریخ کی سب سے اہم تبدیلی کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ ہمارے خداؤں، مذاہب کی اصلیت دریافت کریں اور اگلے 100 سالوں میں دنیا آخر کار ملحد کیوں ہو جائے گی۔ اس کتاب کا مطالعہ بنیادی طور پر دنیا کے بارے میں آپ کا نظریہ بدل دے گا۔ کتاب بے خوفی کے ساتھ ہمارے موجودہ بڑے مذاہب، ان کی ابتداء اور ان کی آخری موت کے راستے کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ ان ثبوتوں کا جائزہ لیتا ہے جو ہم نے قدیم مذاہب کے بارے میں دریافت کیے ہیں، ان ثبوتوں پر جن پر خرافات، رسومات، ممنوعہ اور توہم پرستی کا غلبہ ہے- اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے موجودہ مذاہب میں ہر ایک کا کتنا حصہ ابھی تک موجود ہے۔ کتاب پھر پوچھتی ہے کہ کیا آج کے دیوتا واقعی ہمیشہ موجود تھے، جو اس کی تخلیق کے بعد سے دنیا کی صدارت کر رہے ہیں، ہر ایک ہمارے کائنات کا حتمی خالق اور حکمران ہے- یا اگر، حقیقت میں، وہ واقعی کبھی موجود تھے؟ اس کے بعد نسل انسانی کا مذہب پر مضبوط انحصار اور انحصار پر تفصیل سے غور کیا جاتا ہے۔ ہمارے بچے ملحد کیوں ہوں گے اس سوال سے نمٹتے ہیں کہ کیا مذہب کسی شخص کو بہتر اخلاق اور ضروری نیکی سے ہمکنار کرتا ہے۔ خاص طور پر، یہ تحقیق پر تنقیدی بحث کرتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذہبی بچے اپنے غیر مذہبی ہم منصبوں سے زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔ ان طاقتور میکانزم کا بھی جائزہ لیا گیا جو مذہب اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور مذہب کو آگے بڑھانے کے لیے ریاست کا استعمال۔ کتاب کے آخری حصے میں کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ علم، زندگی کی ابتداء اور اس کے ارتقاء کا مختصراً خاکہ پیش کیا گیا ہے، یہ سب بتدریج خصوصی تخلیق کے ہمارے تصورات کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس کے بعد انسانی روحانیت کے نئے، ابھرتے ہوئے مرحلے کو بیان کیا گیا ہے، جو ایک ایسے نمونے کی نمائندگی کرتا ہے جو آخر کار موجودہ عقائد کو غیر متعلقہ بنا دے گا، جو کہ مذہب سے پاک دور کے آغاز کی علامت ہے۔ مذہب کے پچھلے 100 سال یہاں ہیں۔

سر کو و آدم کے مصنف محمد نعیم خان کا تعلق جنت نظیر (آزاد) کشمیر کے شہر راولا کوٹ سے ہے۔ کولہو کا یہ سفرنامہ چوبیس فروری سے سات مارچ سنہ دو ہزار انیس تک کے دورانیے کو محیط ہے۔ مصنف نے اس سفر نامے کو مختلف مقامات اور مواقع کی منظر کشی کی مناسبت سے کہیں افسانوی اور کہیں بیانیہ انداز و اسلوب سے مزین کیا ہے اور بھی اس سفر نامے کا خاص وصف ہے۔ تحریر میں گاہے گاہے، سری لنکن، ہندی، اردو، انگریزی، پنجابی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ کہیں کہیں مکالماتی رنگ سفرنامے میں ڈرامائی اور افسانوی رنگ بھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں معلومات کا بیان سفر نامے میں داستانوی و دیو مالائی دلکشی سے عبارت ہے۔ ایک اللہ سفر نامہ نگار کی طرح انھوں نے دوران سیاحت نہایت مستعدی سے دستیاب معلومات اور مشاہدے کو نوٹس کی صورت میں محفوظ کر کے سفرنامے میں بیان کر دیا ہے۔ اس سفر نامے میں سری لنکا کے قومی تہواروں، عقائد، رسم و رواج، لسانی، ثقافتی، تہذیبی خواص کے ساتھ ساتھ تاریخی، جغرافیائی، معاشری اور معاشی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ الغرض، سیر کو وہ آدم، میں سفرنامے کے جملہ لوازمات موجود ہیں۔ مجھے اُمید ہے محمد نعیم خان کی یہ کاوش سفر ناموں کی دنیا میں قابل قدر اضافہ ہوگا۔

Book Code: 5730

two legs bad

Book Code: 5780

داناؤں کا قول ہے کہ جب آپ اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تو کوئی دوسرا یہ کام کرے گا۔ وطن عزیز میں مسخ شدہ تاریخ کے ذریعے نوجوانوں کو لوری دے کر سلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ وہ حقیقت سے غافل رہیں اور اس کی آڑ میں سرمایہ داروں، جاگیر داروں، تمن دار اور نوکر شاہی قومی وسائل پر ہاتھ صاف کر کے اپنی عیاشیوں کا سامان کرتے رہیں۔ لیکن خدا کی قدرت ہے کہ جب آپ حقیقت کو چھپانے یا مسح کرنے کی کوشش کریں گے تو کہیں نہ کہیں سے محکوم طبقہ کو اس کا سراغ لگ ہی جائے گا۔ آج کل وطن عزیز پر بھی یہ بات درست ثابت آتی ہے جہاں قصیدہ گو مورخین اور فتوی فروش فقیہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کمینگی کی ہے۔ وہاں بعض ملکی / غیر ملکی محققین نے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں خورشید کمال عزیز کی کتاب " تاریخ کا قتل " ، وکیل انجم کی سیاست کے فرعون " اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی "خاکی وردی " جیسے درخشاں نام شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نام نہاد ترقی پسند قلمکاروں نے اپنے سابقہ آقاؤں اور موجودہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور کالے کرتوتوں کو مصلحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ قارئین کہ ایک محدود حلقہ تک محدود رہی۔ اس کے برعکس حق و صداقت کے علمبردار محققین نے پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے سیاستدانوں اور فوجی و شہری نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ کو طشت از بام کر کے عوام کو حقیقت سے روشناس کرنے کی کوشش کی ہے جن کو وطن عزیز میں اچھی خاصی پذیرائی ملی ہے کیونکہ ان صاحب نظر لوگوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے حقائق کو طشت از بام کر کے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کر کے انقلاب کی راہ ہموار کی ہے۔ ان میں فاضل مصنفہ روزیٹا آرمیٹیج بھی شامل ہے جس نے اپنے علمی منصوبے پر کام کرنے کے دوران پورے ملک کے سیاسی، صنعتی، فوجی، علمی اور کاروباری حلقوں کا بغور مشاہدہ کر کے حقیقت کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے جس کو تعلیمی اور صحافتی شعبدہ بازی کے ذریعے عوام الناس سے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ فاضل مصنفہ نے مذکورہ بالا حلقوں کے سرکردہ لوگوں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان خاندانوں کی مختلف سماجی تقریبات میں بھی شرکت کی جس سے اس پر اشرافیہ کے خاص پہلو آشکار ہوئے کہ کس طرح یہ لوگ خود کو عوام الناس اور باقی طبقات سے بالا تصور کرتے ہیں۔ یہی بالا دستی اور احساس برتری کا تصور ایک زہر آلود خنجر ہے جو خلق خدا کی رگِ جاں میں اترا ہوا ہے علی فاضل مصنفہ نے اپنے مشاہدہ سے واضح کیا کہ صنعتکار ، سیاستدانوں سے گٹھ جوڑ کرنے کے بجائے فوجی افسر کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں شاید انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے اسی طبقہ کی وطن عزیز کے طول و عرض پر حکمرانی ہے ، باقی سب تو مہرے ہیں جو ان کے کہنے پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں مصنفہ نے سیالکوٹ شہر کو نوجوان فوجی افسروں کا سسرالی شہر قرار دیا ہے۔ خاندانی پس منظر کے پیش نظر یہ برطانوی سامراج کے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر ملک کے بڑے بڑے سیاسی، معاشی، صنعتی اور علمی کاروباری اور نوکر شاہی عہدوں پر براجمان ہو کر ایک خاص طبقہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح یہ طبقہ اپنی عیاشیوں کا سامان کرنے کے لیے ملک میں بڑے بڑے کلبوں کی ممبر شپ حاصل کرتا ہے جہاں ہر امیر آدمی کو جانے کی اجازت نہیں خواہ اس کے پاس اربوں روپے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ فاضل مصنفہ کے مطابق ان کلبوں کی رکنیت کے لیے خاص قسم کی پہچان درکار ہے اور یہ سہولت وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کی ماضی میں برطانوی حکمرانوں کے درباروں میں کسی نہ کسی حوالے سے رسائی رہی ہے۔ اس گروہ کے مقابلے میں امیر طبقہ جسے مصنفہ نوے راجے " کہہ کر پکارتی ہے نے اپنے احساس کمتری کو مٹانے / کم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب میں بڑے بڑے کلب قائم کر لیے جن کی فیس،،۔۔۔

Book Name: Lahore Ka Ahlya Qalam Ka Tzkara

Book Code: 5751

Auther: Muhammad Akbar

کیپٹن ڈول انگریزی مصنف ڈی ایچ لارنس کا ناول ، یہ 1921 میں لکھا گیا تھا اور پہلی بار مارٹن سیکر نے مارچ 1923 میں دی لیڈی برڈ اور دی فاکس کے ساتھ ایک جلد میں شائع کیا تھا۔ یہ 1983 کی اسی نام کی ٹی وی فلم کی بنیاد تھی جس میں جیریمی آئرنز بطور کپتان تھے۔

صفحات ۸۸

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid Baig orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid Baig ships.

Need Help?
Questions about یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid Baig, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for یہ میرا بلتستان ہے از سلمی اعوان | Ye Mera Baltistan By Salma Awan Mirza Hamid Baig in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>